کتاب الصید والذبائح وما یوکل من الحیوان

Sahih Muslim 4999

Sahih Muslim 4999 — Book 34, Hadith 28

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ ثَلاَثُمِائَةِ رَاكِبٍ وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ فَسُمِّيَ جَيْشَ الْخَبَطِ فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً يُقَالُ لَهَا الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا مِنْهَا نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهَا حَتَّى ثَابَتْ أَجْسَامُنَا - قَالَ - فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاَعِهِ فَنَصَبَهُ ثُمَّ نَظَرَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ فِي الْجَيْشِ وَأَطْوَلِ جَمَلٍ فَحَمَلَهُ عَلَيْهِ فَمَرَّ تَحْتَهُ قَالَ وَجَلَسَ فِي حَجَاجِ عَيْنِهِ نَفَرٌ قَالَ وَأَخْرَجْنَا مِنْ وَقْبِ عَيْنِهِ كَذَا وَكَذَا قُلَّةَ وَدَكٍ - قَالَ - وَكَانَ مَعَنَا جِرَابٌ مِنْ تَمْرٍ فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنَّا قَبْضَةً قَبْضَةً ثُمَّ أَعْطَانَا تَمْرَةً تَمْرَةً فَلَمَّا فَنِيَ وَجَدْنَا فَقْدَهُ ‏.‏

ترجمہ

عمرو نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سواروں کے ساتھ ہمیں مہم پرروانہ فرمایا ، ہمارے امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، ہمیں قریش کے قافلے کی گھات لگانا تھی ، ہم ( تقریباً ) آدھا مہینہ ساحل سمندر پر ٹھہرے رہے ، ہمیں شدید بھوک کا سامنا تھا ، حتیٰ کہ ہم نے درختوں سےجھاڑے ہوئے پتے کھائے اور اس لشکر کا نام " جھڑے ہوئے پتوں کا لشکر " پڑ گیا ، تو سمندر نے ہمارے لئے ایک جانور نکال کر پھینکا جس کو عنبرکہا جاتاہے ۔ ہم نصف ماہ تک اس کو کھاتے اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر استعمال کیا ، یہاں تک کہ ہمارے بدن اصل حالت میں لوٹ آئے ۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی ایک پسلی ( پیٹھ کا کانٹا ) لے کر اسے نصب کرایا ، پھر لشکر میں سب سے لمبا آدمی اور سب سے اونچا اونٹ ڈھونڈا اور اس آدمی کو اس پر سوار کیا ، تو وہ اس کے نیچے سے گزر گیا ۔ اور اس ( عنبر ) کی آنکھ کے حلقے میں ایک جماعت بیٹھ گئی ۔ کہا : ہم نے اس کی آنکھ کےڈھیلے سے اتنے اتنے مٹکے چربی نکالی ۔ ( سفر کے آغاذ میں ) ہمارے ساتھ ایک بورا ( برابر ) کھجوریں تھیں ۔ ( پہلے ) ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں ایک ایک مٹھی کھجور دیتے تھے ، پھر ایک ایک کھجور دینے لگے ۔ جب ( یہ بھی ملنا ) بند ہوگئیں تو ہم نے سمجھ لیا کہ وہ ختم ہوگئی ہیں ۔

متعلقہ احادیث

Sahih Muslim 4972

Adi b. Hatim reported:I said: Messenger of Allah, I set off trained dogs and they catch for me (the game) and I recite the name of Allah…

Sahih Muslim 4973

Adi b. Hatim reported:I asked Allah's Messenger (ﷺ) saying: We are a people who hunt with these (trained) dogs, then (what should we do)?…

Sahih Muslim 4974

Adi b. Hatim reported that he asked the Messenger of Allah (ﷺ) about (hunting) with the help of an arrow having a stub end. He said:If it…

Sahih Muslim 4975

Adi b. Hatim reported:I asked Allah's Messenger (ﷺ) about Mi'rad (i. e. hunting with the help of arrow having a stub end, and he stated the…

Sahih Muslim 4976

This hadith has been transmitted on the authority of 'Adi b. Hatim with a slight variation of words

Sahih Muslim 4977

Adi b. Hatim reported:I asked Allah's Messenger (ﷺ) about hunting the game with the help of Mi'rad, whereupon he said: If it strikes (the…

Sahih Muslim 4978

This hadith has been narrated on the authority of Zakariya b. Abu Za'ida with the same chain of transmitters

Sahih Muslim 4979

Sha'bi reported:I heard Adi b. Hatim say-and he was our neighbour, and our partner and co worker at Nahrain-that he asked Allah's Apostle…

Sahih Muslim 4980

This hadith has been narrated oif the authority of 'Adi b. Hatim through another chain of transmitters

Sahih Muslim 4981

Adi b. Hatim reported:Allah's Messenger (way peace be upon him) said to me: When you let off your dog, recite the name of Allah, and if it…

Sahih Muslim 4982

Adi b. Hatim reported:I asked Allah's Messenger (ﷺ) about hunting. He said: When you shoot your arrow, recite the name of Allah, and if you…

Sahih Muslim 4983

Abu Tha'laba al-Khushani reported:I came to Allah's Messenger (ﷺ) and said: Allah's Messenger, we are in the land of the People of the…