کتاب السلام

Sahih Muslim 5839

Sahih Muslim 5839 — Book 39, Hadith 190

وَحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ صَيْفِيٍّ، - وَهُوَ عِنْدَنَا مَوْلَى ابْنِ أَفْلَحَ - أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي بَيْتِهِ قَالَ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي فَجَلَسْتُ أَنْتَظِرُهُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلاَتَهُ فَسَمِعْتُ تَحْرِيكًا فِي عَرَاجِينَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا حَيَّةٌ فَوَثَبْتُ لأَقْتُلَهَا فَأَشَارَ إِلَىَّ أَنِ اجْلِسْ ‏.‏ فَجَلَسْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ فَقَالَ أَتَرَى هَذَا الْبَيْتَ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ - قَالَ - فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى الْخَنْدَقِ فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِأَنْصَافِ النَّهَارِ فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَاسْتَأْذَنَهُ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ خُذْ عَلَيْكَ سِلاَحَكَ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلاَحَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةً فَأَهْوَى إِلَيْهَا الرُّمْحَ لِيَطْعُنَهَا بِهِ وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ فَقَالَتْ لَهُ اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ وَادْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي ‏.‏ فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الْحَيَّةُ أَمِ الْفَتَى قَالَ فَجِئْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ وَقُلْنَا ادْعُ اللَّهَ يُحْيِيهِ لَنَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ إِنَّ بِالْمَدِينَةِ جِنًّا قَدْ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ ‏"‏ ‏.‏

ترجمہ

امام مالک بن انس نے ، ابن افلح کے آزاد کردہ غلام صیفی سے روایت کی ، کہا : مجھے ہشام بن زہرہ کے آزاد کردہ غلام ابو سائب نے بتایا کہ وہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے گھر گئے ۔ ابوسائب نے کہا کہ میں نے ان کو نماز میں پایا تو بیٹھ گیا ۔ میں نماز پڑھ چکنے کا منتظر تھا کہ اتنے میں ان لکڑیوں میں کچھ حرکت کی آواز آئی جو گھر کے کونے میں رکھی تھیں ۔ میں نے ادھر دیکھا تو ایک سانپ تھا ۔ میں اس کے مارنے کو دوڑا تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا کہ بیٹھ جا ۔ میں بیٹھ گیا جب نماز سے فارغ ہوئے تو مجھے ایک کوٹھری دکھاتے ہوئے پوچھا کہ یہ کوٹھڑی دیکھتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں ، انہوں نے کہا کہ اس میں ہم لوگوں میں سے ایک جوان رہتا تھا ، جس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خندق کی طرف نکلے ۔ وہ جوان دوپہر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر گھر آیا کرتا تھا ۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہتھیار لے کر جا کیونکہ مجھے بنی قریظہ کا ڈر ہے ( جنہوں نے دغابازی کی تھی اور موقع دیکھ کر مشرکوں کی طرف ہو گئے تھے ) ۔ اس شخص نے اپنے ہتھیار لے لئے ۔ جب اپنے گھر پر پہنچا تو اس نے اپنی بیوی کو دیکھا کہ دروازے کے دونوں پٹوں کے درمیان کھڑی ہے ۔ اس نے غیرت سے اپنا نیزہ اسے مارنے کو اٹھایا تو عورت نے کہا کہ اپنا نیزہ سنبھال اور اندر جا کر دیکھ تو معلوم ہو گا کہ میں کیوں نکلی ہوں ۔ وہ جوان اندر گیا تو دیکھا کہ ایک بڑا سانپ کنڈلی مارے ہوئے بچھونے پر بیٹھا ہے ۔ جوان نے اس پر نیزہ اٹھایا اور اسے نیزہ میں پرو لیا ، پھر نکلا اور نیزہ گھر میں گاڑ دیا ۔ وہ سانپ اس پر لوٹا اس کے بعد ہم نہیں جانتے کہ سانپ پہلے مرا یا جوان پہلے شہید ہوا ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا قصہ بیان کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ اس جوان کو پھر جلا دے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے ساتھی کے لئے بخشش کی دعا کرو ۔ پھر فرمایا کہ مدینہ میں جن رہتے ہیں جو مسلمان ہو گئے ہیں ، پھر اگر تم سانپوں کو دیکھو تو تین دن تک ان کو خبردار کرو ، اگر تین دن کے بعد بھی نہ نکلیں تو ان کو مار ڈالو کہ وہ شیطان ہیں ( یعنی کافر جن ہیں یا شریر سانپ ہیں ) ۔

متعلقہ احادیث

Sahih Muslim 5646

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The rider should first greet the pedestrian, and the pedestrian the one who is seated…

Sahih Muslim 5647

Abu Talha reported:While we were sitting in front of the houses and talking amongst ourselves, Allah's Messenger (ﷺ) happened to come…

Sahih Muslim 5648

Abu Sa'id Khudri reported Allah's Apostle (ﷺ) as saying:Avoid sitting on the paths. They (the Companions) said: Allah's Messenger, we…

Sahih Muslim 5649

This hadith has been narrated on the authority of Zaid b. Aslam with the same chain of transmitters

Sahih Muslim 5650

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Five are the rights of a Muslim over his brother: responding to salutation, saying…

Sahih Muslim 5651

Abu Huraira reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:Six are the rights of a Muslim over another Muslim. It was said to him: Allah's…

Sahih Muslim 5652

Anas b. Malik reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the People of the Book offer you salutations, you should say: The same to you

Sahih Muslim 5653

Anas reported that the Companions of Allah's Apostle (ﷺ) said to him:The People. of the Book offer us salutations (by saying as-Salamu-…

Sahih Muslim 5654

Ibn 'Umar reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:When the Jews offer you salutations, some of them say as-Sam-u-'Alaikum (death be upon…

Sahih Muslim 5655

This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Umar through another chain of transmitters with a slight variation of wording

Sahih Muslim 5656

A'isha reported that a group of Jews came to Allah's Messenger (ﷺ) and sought his audience and said:As-Sam-u-'Alaikum. A'isha said in…

Sahih Muslim 5657

This hadith has been transmitted on the authority of Zuhri that Allah's Messenger (ﷺ) said:I said 'Alaikum, and the transmitter did not…