کتاب الاشربۃ
Sahih Muslim 5359
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي مَجْهُودٌ . فَأَرْسَلَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلاَّ مَاءٌ . ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أُخْرَى فَقَالَتْ مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى قُلْنَ كُلُّهُنَّ مِثْلَ ذَلِكَ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عِنْدِي إِلاَّ مَاءٌ . فَقَالَ " مَنْ يُضِيفُ هَذَا اللَّيْلَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ " . فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ فَقَالَ لاِمْرَأَتِهِ هَلْ عِنْدَكِ شَىْءٌ . قَالَتْ لاَ إِلاَّ قُوتُ صِبْيَانِي . قَالَ فَعَلِّلِيهِمْ بِشَىْءٍ فَإِذَا دَخَلَ ضَيْفُنَا فَأَطْفِئِي السِّرَاجَ وَأَرِيهِ أَنَّا نَأْكُلُ فَإِذَا أَهْوَى لِيَأْكُلَ فَقُومِي إِلَى السِّرَاجِ حَتَّى تُطْفِئِيهِ . قَالَ فَقَعَدُوا وَأَكَلَ الضَّيْفُ . فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " قَدْ عَجِبَ اللَّهُ مِنْ صَنِيعِكُمَا بِضَيْفِكُمَا اللَّيْلَةَ " .
ترجمہ
جریر بن عبدالحمید نےفضیل بن غزوان سے ، انھوں نے ابو حازم اشجعی سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے ( کھانے پینے کی ) بڑی تکلیف ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ مطہرہ کے پاس کہلا بھیجا ، وہ بولیں کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے کہ میرے پاس تو پانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری زوجہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ، یہاں تک کہ سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے یہی جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کی رات کون اس کی مہمانی کرتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، تب ایک انصاری اٹھا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں کرتا ہوں ۔ پھر وہ اس کو اپنے ٹھکانے پر لے گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ وہ بولی کہ کچھ نہیں البتہ میرے بچوں کا کھانا ہے ۔ انصاری نے کہا کہ بچوں سے کچھ بہانہ کر دے اور جب ہمارا مہمان اندر آئے اور دیکھنا جب ہم کھانے لگیں تو چراغ بجھا دینا ۔ پس جب وہ کھانے لگا تو وہ اٹھی اور چراغ بجھا دیا ( راوی ) کہتا ہے وہ بیٹھے اور مہمان کھاتا رہا ۔ اس نے ایسا ہی کیا اور میاں بیوی بھوکے بیٹھے رہے اور مہمان نے کھانا کھایا ۔ جب صبح ہوئی تو وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے تعجب کیا جو تم نے رات کو اپنے مہمان کے ساتھ کیا ( یعنی خوش ہوا ) ۔
متعلقہ احادیث
Sahih Muslim 5114
Sahih Muslim 5115
Sahih Muslim 5127
Ali b. Abu Talib reported; There fell to my lot along with Allah's Messenger (ﷺ) an old she-camel from the spoils of Badr. Allah's…
Sahih Muslim 5128
This hadith has been narrated on the authority of Juraij with the same chain of transmitters
Sahih Muslim 5129
Husain b. 'Ali reported 'Ali having said:There fell to my lot a she-camel out of the spoils of war on the Day of Badr, and Allah's…
Sahih Muslim 5130
The above hadith has been narrated likewise through another chain of transmitters
Sahih Muslim 5131
Anas b. Malik reported:I was the cup-bearer of some people in the house of Abu Talha on the day when liquor was forbidden. Their liquor had…
Sahih Muslim 5132
Abd al-Aziz b. Suhaib reported:They (some persons) asked Anas b. Malik, about Fadikh (that is, a wine prepared from fresh dates), whereupon…
Sahih Muslim 5133
Anas b. Malik reported:I was standing amongst the uncles of my tribe serving them Fadikh while I was the youngest of them, when a person…
Sahih Muslim 5134
Anas reported:I was standing amongst the members of my (tribe) and serving them liquor. The rest of the hadith is the same, but with this…
Sahih Muslim 5135
Anas b. Malik reported I was serving wine to Abu Talha, and Abu Dujana. and Mu'adh b. jabal admidst a group of Ansar when a visitor came to…
Sahih Muslim 5136
Anas b. Malik said:I was serving wine to Abu Talha, Abu Dujana, and Suhail b. Baida' from a waterskin which contained the mixture of unripe…