کتاب الجہاد والسیر
Sahih Muslim 4668
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ عَبَّادٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، - وَهُوَ ابْنُ إِسْمَاعِيلَ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى خَيْبَرَ فَتَسَيَّرْنَا لَيْلاً فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ الأَكْوَعِ أَلاَ تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِكَ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلاً شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلاَ أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا اقْتَفَيْنَا وَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَنْ هَذَا السَّائِقُ " . قَالُوا عَامِرٌ . قَالَ " يَرْحَمُهُ اللَّهُ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلاَ أَمْتَعْتَنَا بِهِ . قَالَ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْكُمْ " . قَالَ فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ تُوقِدُونَ " . فَقَالُوا عَلَى لَحْمٍ . قَالَ " أَىُّ لَحْمٍ " . قَالُوا لَحْمُ حُمُرِ الإِنْسِيَّةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا " . فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ يُهَرِيقُوهَا وَيَغْسِلُوهَا فَقَالَ " أَوْ ذَاكَ " . قَالَ فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ فِيهِ قِصَرٌ فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ فَأَصَابَ رُكْبَةَ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا قَفَلُوا قَالَ سَلَمَةُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي قَالَ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَاكِتًا قَالَ " مَا لَكَ " . قُلْتُ لَهُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ قَالَ " مَنْ قَالَهُ " . قُلْتُ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الأَنْصَارِيُّ فَقَالَ " كَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لأَجْرَيْنِ " . وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ " إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ " . وَخَالَفَ قُتَيْبَةُ مُحَمَّدًا فِي الْحَدِيثِ فِي حَرْفَيْنِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّادٍ وَأَلْقِ سَكِينَةً عَلَيْنَا .
ترجمہ
قتیبہ بن سعید اور محمد بن عباد نے ۔ ۔ الفاظ ابن عباد کے ہیں ۔ ۔ ہمیں حدیث بیان کی ، ان دونوں نے کہا : ہمیں حاتم بن اسماعیل نے سلمہ بن اکوع کے آزاد کردہ غلام یزید بن ابی عبید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو ہم نے رات کے وقت سفر کیا ، لوگوں میں سے ایک آدمی نے عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا تم ہمیں اپنے نادر جنگی اشعار سے نہیں سناؤ گے؟ اور عامر رضی اللہ عنہ شاعر آدمی تھے ، وہ اتر کر لوگوں کے ( اونٹوں ) کے لیے حدی خوانی کرنے لگے ، وہ کہہ رہے تھے : "" اے اللہ! اگر تو ( فضل و کرم کرنے والا ) نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے ، نہ صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے ، ہم تیرے نام پر قربان ، ہم نے جو گناہ کیے ان کو بخش دے اور اگر ہمارا مقابلہ ہو تو ہمارے قدم جما دے اور ہم پر ضرور بالضرور سکینت اور وقار نازل فرما ۔ ہمیں جب بھی آواز دے کر بلایا گیا ہم آئے ، ہمیں آواز دے کر ان ( آواز دینے والے ) لوگوں نے ہم پر اعتماد کیا ( اور ہم اس پر پورے اترے ۔ ) "" تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" یہ ( حدی خوانی کر کے ) اونٹوں کو ہانکنے والا کون ہے؟ "" لوگوں نے کہا : عامر ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اللہ سے اس کی محبت اور شوق کو دیکھتے ہوئے ) فرمایا : "" اللہ اس پر رحم کرے! "" لوگوں میں سے ایک آدمی ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : ( اس کے لیے شہادت ) واجب ہو گئی ، اے اللہ کے رسول! آپ نے ( اس کے حق میں دعا مؤخر فرما کر ) ہمیں اس ( کی صحبت ) سے زیادہ مدت فائدہ کیوں نہیں اٹھانے دیا؟ ( سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ہم خیبر پہنچے تو ہم نے ان کا محاصرہ کر لیا یہاں تک کہ ہمیں ( شدید بھوک کے ) مخمصے نے آ لیا ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ اللہ نے اسے ان ( جہاد کرنے والے ) لوگوں کے لیے فتح کر دیا ہے ۔ "" جب لوگوں نے اس دن کی شام کی جب انہیں فتح عطا کی گئی تھی تو انہوں نے بہت سی ( جگہوں پر ) آگ جلائی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" یہ آگ کیسی ہے اور یہ لوگ کس چیز ( کو پکانے ) کے لیے اسے جلا رہے ہیں؟ "" انہوں نے جواب دیا : گوشت ( کو پکانے ) کے لیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" کون سا گوشت؟ "" انہوں نے جواب دیا : پالتو گدھوں کا گوشت ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے ( پانی سمیت ) بہا دو اور ان ( برتنوں ) کو توڑ دو ۔ "" اس پر ایک آدمی نے کہا : یا اسے بہا دیں اور برتن دھو لیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یا ایسے کر لو ۔ "" کہا : جب لوگوں نے مل کر صف بندی کی تو عامر رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی ، انہوں نے مارنے کے لیے اس ( تلوار ) سے ایک یہودی کی پنڈلی کو نشانہ بنایا تو تلوار کی دھار لوٹ کر عامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے پر آ لگی اور وہ اسی زخم سے فوت ہو گئے ۔ جب لوگ واپس ہوئے ، سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اور اس وقت انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خاموش دیکھا تو آپ نے پوچھا : "" تمہیں کیا ہوا ہے؟ "" میں نے آپ سے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان! لوگوں کا خیال ہے کہ عامر رضی اللہ عنہ کا عمل ضائع ہو گیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" کس نے کہا ہے؟ "" میں نے کہا : فلاں ، فلاں اور اسید بن حضیر انصاری رضی اللہ عنہ نے ۔ تو آپ نے فرمایا : "" جس نے بھی یہ کہا ، غلط کہا ہے ، اس کے لیے تو یقینا دو اجر ہیں ۔ "" آپ نے اپنی دونوں انگلیوں کو اکٹھا کیا ۔ "" وہ تو خود جم کر جہاد کرنے والے مجاہد تھے ، کم ہی کوئی عربی ہو گا جو اس راستے پر ان کی طرح چلا ہو گا ۔ "" قتیبہ نے حدیث کے دو حرفوں ( القين کے آخری دو حرفوں ی اور ن ) میں محمد ( بن عباد ) کی مخالفت کی ہے اور ( محمد ) بن عباد کی روایت میں ( القين کے بجائے ) الق ( ضرور بالضرور کی تاکید کے بغیر محض ) "" نازل کر "" کے الفاظ ہیں
متعلقہ احادیث
Sahih Muslim 4519
Ibn 'Aun reported:I wrote to Nafi' inquiring from him whether it was necessary to extend (to the disbelievers) an invitation to accept…
Sahih Muslim 4520
This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Aun and the name of Juwairiya bint al-Harith was mentioned beyond any doubt
Sahih Muslim 4523
Sulaiman b. Buraida repotted on the authority of his father that when Allah's Messenger (ﷺ) sent an Amir with a detachment he called him…
Sahih Muslim 4524
This hadith has been transmitted on the authority of Shu'ba
Sahih Muslim 4525
It has been narrated on the authority of Abu Masa that when the Messenger of Allah (ﷺ) deputed any of his Companions on a mission, he would…
Sahih Muslim 4526
It has also been narrated by Sa'd b. Abu Burda through his father through his grandfather that the Prophet of Allah (ﷺ) sent him and Mu'adh…
Sahih Muslim 4527
This hadith has been transmitted on the authority of Buraida but for the last two words
Sahih Muslim 4528
The Messenger of Allah (may peace he upon him) has been reported by Anas b. Malik to have said:Show leniency; do not be hard; give solace…
Sahih Muslim 4529
It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:When Allah will gather together, on the Day of…
Sahih Muslim 4530
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through some other Chains of transmitters
Sahih Muslim 4531
This hadith has been narrated by another chain of transmitters on the authority of the same narrator, with the wording:Allah will set up a…
Sahih Muslim 4532
Ibn Umar reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:There will be a flag for every perfidious person on the Day of Judgment