کتاب الجہاد والسیر

Sahih Muslim 4568

Sahih Muslim 4568 — Book 32, Hadith 49

وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ ‏.‏ قَالَ فَرَأَيْتُ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلاَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ وَأَقْبَلَ عَلَىَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ مَا لِلنَّاسِ فَقُلْتُ أَمْرُ اللَّهِ ‏.‏ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَقُمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْ حَقِّهِ ‏.‏ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لاَهَا اللَّهِ إِذًا لاَ يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ ‏"‏ ‏.‏ فَأَعْطَانِي قَالَ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلاَمِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلاَّ لاَ يُعْطِيهِ أُضَيْبِعَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسُدِ اللَّهِ ‏.‏ وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ ‏.‏

ترجمہ

امام مالک بن انس کہتے ہیں : مجھے یحییٰ بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابومحمد سے اور انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، جب ( دشمن سے ) ہمارا سامنا ہوا تو مسلمانوں میں بھگدڑ مچی ۔ کہا : میں نے مشرکوں میں سے ایک آدمی دیکھا جو مسلمانوں کے ایک آدمی پر غالب آ گیا تھا ، میں گھوم کر اس کی طرف بڑھا حتی کہ اس کے پیچھے آ گیا اور اس کی گردن کے پٹھے پر وار کیا ، وہ ( اسے چھوڑ کر ) میری طرف بڑھا اور مجھے اس زور سے دبایا کہ مجھے اس ( دبانے ) سے موت کی بو محسوس ہونے لگی ، پھر اس کو موت نے آ لیا تو اس نے مجھے چھوڑ دیا ، اس کے بعد میری حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے پوچھا : لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا : اللہ کا حکم ہے ۔ پھر لوگ واپس پلٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تو آپ نے فرمایا : "" جس نے کسی کو قتل کیا ، ( اور ) اس کے پاس اس کی کوئی دلیل ( نشانی وغیرہ ) ہو تو اس ( مقتول ) سے چھینا ہوا سامان اسی کا ہو گا ۔ "" کہا : تو میں کھڑا ہوا اور کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا ۔ پھر آپ نے اسی طرح ارشاد فرمایا ۔ کہا : تو میں کھڑا ہوا اور کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا ۔ پھر آپ نے تیسری بار یہی فرمایا ۔ کہا : میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ابوقتادہ! تمہارا کیا معاملہ ہے؟ "" تو میں نے آپ کو یہ واقعہ سنایا ۔ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول! اس نے سچ کہا ہے ۔ اس مقتول کا چھینا ہوا سامان میرے پاس ہے ، آپ انہیں ان کے حق سے ( دستبردار ہونے پر ) مطمئن کر دیجیے ۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر سے ، جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لڑائی کرتا ہے ، نہیں چاہیں گے کہ وہ اپنے مقتول کا چھینا ہوا سامان تمہیں دے دیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" انہوں نے سچ کہا : وہ انہی کو دے دو ۔ "" تو اس نے ( وہ سامان ) مجھے دے دیا ، کہا : میں نے ( اسی سامان میں سے ) زرہ فروخت کی اور اس ( کی قیمت ) سے ( اپنی ) بنو سلمہ ( کی آبادی ) میں ایک باغ خرید لیا ۔ وہ پہلا مال تھا جو میں نے اسلام ( کے زمانے ) میں بنایا ۔ لیث کی حدیث میں ہے : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہرگز نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو چھوڑ کر قریش کے ایک چھوٹے سے لگڑ بگھے کو عطا نہیں کریں گے ۔ لیث کی حدیث میں ہے : ( انہوں نے کہا ) وہ پہلا مال تھا جو میں نے بنایا

متعلقہ احادیث

Sahih Muslim 4519

Ibn 'Aun reported:I wrote to Nafi' inquiring from him whether it was necessary to extend (to the disbelievers) an invitation to accept…

Sahih Muslim 4520

This hadith has been narrated on the authority of Ibn 'Aun and the name of Juwairiya bint al-Harith was mentioned beyond any doubt

Sahih Muslim 4523

Sulaiman b. Buraida repotted on the authority of his father that when Allah's Messenger (ﷺ) sent an Amir with a detachment he called him…

Sahih Muslim 4524

This hadith has been transmitted on the authority of Shu'ba

Sahih Muslim 4525

It has been narrated on the authority of Abu Masa that when the Messenger of Allah (ﷺ) deputed any of his Companions on a mission, he would…

Sahih Muslim 4526

It has also been narrated by Sa'd b. Abu Burda through his father through his grandfather that the Prophet of Allah (ﷺ) sent him and Mu'adh…

Sahih Muslim 4527

This hadith has been transmitted on the authority of Buraida but for the last two words

Sahih Muslim 4528

The Messenger of Allah (may peace he upon him) has been reported by Anas b. Malik to have said:Show leniency; do not be hard; give solace…

Sahih Muslim 4529

It has been narrated on the authority of Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:When Allah will gather together, on the Day of…

Sahih Muslim 4530

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar through some other Chains of transmitters

Sahih Muslim 4531

This hadith has been narrated by another chain of transmitters on the authority of the same narrator, with the wording:Allah will set up a…

Sahih Muslim 4532

Ibn Umar reported that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying:There will be a flag for every perfidious person on the Day of Judgment