کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ

Sahih Muslim 1562

Sahih Muslim 1562 — Book 5, Hadith 395

وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، - يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ - حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّكُمْ تَسِيرُونَ عَشِيَّتَكُمْ وَلَيْلَتَكُمْ وَتَأْتُونَ الْمَاءَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا ‏"‏ ‏.‏ فَانْطَلَقَ النَّاسُ لاَ يَلْوِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ - قَالَ أَبُو قَتَادَةَ - فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسِيرُ حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ - قَالَ - فَنَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَالَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَأَتَيْتُهُ فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ حَتَّى اعْتَدَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ - قَالَ - ثُمَّ سَارَ حَتَّى تَهَوَّرَ اللَّيْلُ مَالَ عَنْ رَاحِلَتِهِ - قَالَ - فَدَعَمْتُهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ أُوقِظَهُ حَتَّى اعْتَدَلَ عَلَى رَاحِلَتِهِ - قَالَ - ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ مَالَ مَيْلَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الْمَيْلَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ حَتَّى كَادَ يَنْجَفِلُ فَأَتَيْتُهُ فَدَعَمْتُهُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَبُو قَتَادَةَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَتَى كَانَ هَذَا مَسِيرَكَ مِنِّي ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ مَا زَالَ هَذَا مَسِيرِي مُنْذُ اللَّيْلَةِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ حَفِظَكَ اللَّهُ بِمَا حَفِظْتَ بِهِ نَبِيَّهُ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَرَانَا نَخْفَى عَلَى النَّاسِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ هَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ هَذَا رَاكِبٌ ‏.‏ ثُمَّ قُلْتُ هَذَا رَاكِبٌ آخَرُ ‏.‏ حَتَّى اجْتَمَعْنَا فَكُنَّا سَبْعَةَ رَكْبٍ - قَالَ - فَمَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الطَّرِيقِ فَوَضَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلاَتَنَا ‏"‏ ‏.‏ فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَالشَّمْسُ فِي ظَهْرِهِ - قَالَ - فَقُمْنَا فَزِعِينَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ ارْكَبُوا ‏"‏ ‏.‏ فَرَكِبْنَا فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ نَزَلَ ثُمَّ دَعَا بِمِيضَأَةٍ كَانَتْ مَعِي فِيهَا شَىْءٌ مِنْ مَاءٍ - قَالَ - فَتَوَضَّأَ مِنْهَا وُضُوءًا دُونَ وُضُوءٍ - قَالَ - وَبَقِيَ فِيهَا شَىْءٌ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ لأَبِي قَتَادَةَ ‏"‏ احْفَظْ عَلَيْنَا مِيضَأَتَكَ فَسَيَكُونُ لَهَا نَبَأٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَذَّنَ بِلاَلٌ بِالصَّلاَةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ كُلَّ يَوْمٍ - قَالَ - وَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَكِبْنَا مَعَهُ - قَالَ - فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَهْمِسُ إِلَى بَعْضٍ مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْنَا بِتَفْرِيطِنَا فِي صَلاَتِنَا ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلاَةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الصَّلاَةِ الأُخْرَى فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا فَإِذَا كَانَ الْغَدُ فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَا تَرَوْنَ النَّاسَ صَنَعُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَصْبَحَ النَّاسُ فَقَدُوا نَبِيَّهُمْ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعْدَكُمْ لَمْ يَكُنْ لِيُخَلِّفَكُمْ ‏.‏ وَقَالَ النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَيْدِيكُمْ فَإِنْ يُطِيعُوا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ يَرْشُدُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَانْتَهَيْنَا إِلَى النَّاسِ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ وَحَمِيَ كُلُّ شَىْءٍ وَهُمْ يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا عَطِشْنَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ هُلْكَ عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَطْلِقُوا لِي غُمَرِي ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَدَعَا بِالْمِيضَأَةِ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُبُّ وَأَبُو قَتَادَةَ يَسْقِيهِمْ فَلَمْ يَعْدُ أَنْ رَأَى النَّاسُ مَاءً فِي الْمِيضَأَةِ تَكَابُّوا عَلَيْهَا ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَحْسِنُوا الْمَلأَ كُلُّكُمْ سَيَرْوَى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَفَعَلُوا فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُبُّ وَأَسْقِيهِمْ حَتَّى مَا بَقِيَ غَيْرِي وَغَيْرُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - ثُمَّ صَبَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي ‏"‏ اشْرَبْ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لاَ أَشْرَبُ حَتَّى تَشْرَبَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ‏"‏ إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ شُرْبًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - فَأَتَى النَّاسُ الْمَاءَ جَامِّينَ رِوَاءً ‏.‏ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ إِنِّي لأُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مَسْجِدِ الْجَامِعِ إِذْ قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ انْظُرْ أَيُّهَا الْفَتَى كَيْفَ تُحَدِّثُ فَإِنِّي أَحَدُ الرَّكْبِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ فَأَنْتَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ ‏.‏ فَقَالَ مِمَّنْ أَنْتَ قُلْتُ مِنَ الأَنْصَارِ ‏.‏ قَالَ حَدِّثْ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِحَدِيثِكُمْ ‏.‏ قَالَ فَحَدَّثْتُ الْقَوْمَ فَقَالَ عِمْرَانُ لَقَدْ شَهِدْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَمَا شَعَرْتُ أَنَّ أَحَدًا حَفِظَهُ كَمَا حَفِظْتُهُ ‏.‏

ترجمہ

ثابت نے عبداللہ بن رباح سے اور انھوں نے حضرت ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےر وایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب فرمایا اور کہا : ’’تم اپنی ( پوری ) شام اور ( پوری ) رات چلتے رہو گے تو ان شاء اللہ کل تک پانی پر پہنچ جاؤ گے ۔ ‘ ‘ لوگ چل پڑے ، کوئی مڑ کر دوسرے کی طرف دیکھتا بھی نہ تھا ۔ ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اسی عالم میں رسول اللہ ﷺچلتے رہے یہاں تک کہ رات آدھی گزر گئی ، میں آپ کے پہلو میں چل رہا تھا ، کہا : تو رسول اللہ ﷺ کو اونگھ آگئی اور آپ سواری سے ایک طرف جھک گئے ، میں آپ کے پاس آیا اور آپ کو جگائے بغیر آپ کو سہارا دیا حتی کہ آپ اپنی سواری پر سیدھے ہو گئے ، پھر آپ چلتے رہے یہا ں تک کہ رات کا بیشتر حصہ گزر گیا ، آپ ( پھر ) سواری پر ( ایک طرف ) جھکے ، کہا : میں نے آپ کو جگائے بغیر آپ کو سہارا دیا یہاں تک کہ آپ اپنی سواری پر سیدھے ہو گئے ، کہا : پھر چلتے رہے حتی کہ سحری کا آخری وقت تھا تو آپ ( پھر ) جھکے ، یہ جھکنا پہلے دونزں بار کے جھکنے سے زیادہ تھا ، قریب تھا کہ آپ اونٹ سے گر پڑتے ، میں آپ کے پاس آیا اور آپ کو سہارا دیاتو آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا : ’’یہ کون ہے ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : ابو قتادہ ہوں ۔ فرمایا : ’’تم کب سے میرے ساتھ اس طرح چل رہے ہو؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : میں رات ہی سے اس طرح سفر کر رہا ہوں ۔ فرمایا : ’’ اللہ اسی طرح تمھاری حفاظت کرے جس طر ح تم نے اس کے نبی کی حفاظت کی ۔ ‘ ‘ پھر فرمایا : ’’ کیا تم دیکھ رہے ہو ( کہ ) ہم لوگوں سے اوجھل ہیں ؟ ‘ ‘ پھر پوچھا : ’’تمھیں کوئی ( اور ) نظر آر ہا ہے ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : یہ ایک سوار ہے ۔ پھر عرض کی : یہ ایک اور سوار ہے حتی کہ ہم اکٹھے ہوئے تو سات سوار تھے ، کہا : رسول اللہ ﷺ راستے سے ایک طرف ہٹے ، پھر سر ( نیچے ) رکھ دیا ( اور لیٹ گئے ) پھر فرمایا : ’’ ہمارے لیے ہماری نماز کا خیال رکھنا ۔ ‘ ‘ پھر جو سب سے پہلے جاگے وہ رسول اللہ ﷺ ہی تھے ، سورج آپ کی پشت پر ( چمک رہا ) تھا ، کہا : ہم سخت تشویش کے عالم میں کھڑے ہوئے ، پھر آپ نے فرمایا : ’’سوار ہوجاؤ ۔ ‘ ‘ ہم سوار ہوئے اور ( آگے ) چل پڑے حتی کہ جب سورج بلند ہو گیا تو آپ اترے ، پھر آپ نے وضو کا برتن مانگا جو میرے ساتھ تھا ، اسی میں کچھ پانی تھا ، کہا : پھر آپ نے اس سے ( مکمل ) وضو کے مقابلے میں کچھ ہلکا وضو کیا ، اور ا س میں کچھ پانی بچ بھی گیا ، پھر آپ نے ( مجھے ) ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے فرمایا : ’’ ہمارے لیے اپنے وضو کا برتن محفوظ رکھنا ، اس کی ایک خبر ہو گی ۔ ‘ ‘ پھر بلال ر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نماز کے لیے اذان کہی ، رسول اللہ ﷺ نے دو رکعتیں پڑھیں ، پھر آپ نے اسی طرح جس طرح روز کرتے تھے صبح کی نماز پڑھائی ، کہا : اور رسول اللہ ﷺ سوار ہو گئے ہم بھی آپ کی معیت میں سوار ہو گئے ، کہا : ہم میں سے کچھ لوگ ایک دوسرے سے کھسر پھر کرنے لگے کہ ہم نے نماز میں جو کوتاہی کی ہے اس کا کفارہ کیا ہے ؟ اس پر آپ نے فرمایا : ’’ کیا تمھارے لیے میر ے عمل میں نمونہ نہیں ؟ ‘ ‘ پھر آپ نے فرمایا : ’’ سمجھ لو ! نیند ( آجانے ) میں ( کسی کی ) کوئی کوتاہی نہیں ۔ ‘ ‘ کوتاہی اس کی ہے جس نے ( جاگنے کے بعد ) دوسری نماز کا وقت آجانے تک نماز نہیں پڑھی ، جو اس طرح ( نیند ) کرے تو جب اس کے لیے جاگے تو یہ نماز پڑھ لے ، پھر جب دوسرا دن آئے تو اسے وقت پر ادا کرے ۔ ‘ ‘ پھر فرمایا : ’’تم کیا دیکھتے ہو ( دوسرے ) لوگوں نےکیا کیا ؟ ‘ ‘ کہا : پھر آپ نے فرمایا : ’’لوگوں نے صبح کی تو اپنے نبی کو گم پایا ۔ ابو بکر اور عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ تمھارے پیچھے ہیں ، وہ ایسے نہیں کہ تمھیں پیچھے چھوڑ دیں ۔ ( دوسرے ) لوگوں نے کہا : بے شک رسول اللہ ﷺ تم سے آگے ہیں ۔ اگر وہ ابو بکر اور عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی ا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اعت کریں تو صحیح راستے پر چلیں گے ۔ ‘ ‘ کیا : تو ہم لوگوں تک ( اس وقت ) پہنچ پائے جب دن چڑھ آیا تھا اور ہر شے تپ گئی تھی اور وہ کہہ رہے تھے : اے اللہ کے رسول ! ہم پیا سے مر گئے ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’ تم پر کوئی ہلاکت نہیں آئی ۔ ‘ ‘ پھر فرمایا : ’’میرا چھوٹا پیالہ میرے پاس آنے دو ۔ ‘ ‘ کہا : پھر وضو کے پانی والا برتن منگوایا ، رسول اللہ ﷺ ( اس سے پیالے میں ) انڈیلتے گئے اور ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کو پلاتے گئے ، زیاد دیر نہ گزری تھ کہ لوگوں نے وضو کے برتن کیں جو ( تھوڑا سا پانی ) تھا ، دیکھ لیا ، اس بر جھرمٹ بناکر اکٹھے ہو گے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اچھا طریقہ اختیار کرو ، تم میں سے ہر ایک اچھی طرح پیاس بجھا لے گا ۔ ‘ ‘ کہا : لوگوں نے ایسا ہی کیا ، رسول اللہ ﷺ پانی ( پیالے میں ) انڈیلتے گئے اور میں لوگوں کو پلاتا گیا یہاں تک کہ میرے اور رسول اللہ ﷺ کے سوا اور کوئی نہ بچا ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے پھر پانی ڈالا اور مجھ سے فرمایا : ’’ پیو ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! جب تک آپ نہیں پی لیں گے میں نہیں پیوں گا ۔ فرمایا : ’’ قوم کو پانی پلانے والا ان سب سے آخر میں پیتا ہے ۔ ‘ ‘ کہا : تب میں نے پی لیا اور رسول اللہ ﷺ نے بھی نوش فرمایا ، کہا : اس کے بعد لوگ اس حالت میں ( اگلے ) پانی پر پہنچے کہ سب ( نے اپنے ) برتن پانی سے بھرے ہوئے تھے اور ( خوب ) سیراب تھے ۔ ( ثابت نے ) کہا ، عبداللہ بن رباح نے کہا : میں یہ حدیث جامع مسجد میں سب لوگوں کو سناؤں گا ۔ تب عمران بن حصین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : اے جوان ! خیال رکھنا کہ تم کس طرح حدیث بیان کرتے ہو ، اس رات میں بھی قافلے کے سواروں میں سے ایک تھا ۔ کہا : میں نے عرض کی : آپ اس حدیث کو زیادہ جاننے والے ہیں ۔ تو انھوں نے پوچھا : تم کس قبیلے سے ہو ؟ میں میں نے کہا انصار سے ۔ فرمایا : حدیث بیان کرو تم اپنی احادیث سے زیادہ آگاہ ہو ( انصار میں سے ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اس سارے واقعے کا سب سے زیادہ اور باریکی سے مشاہدہ کیا تھا بلکہ و ہ اس سارے واقعے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ساتھ تھے ، آگے ان سے سننے والے عبداللہ بن رباح بھی انصار میں سے تھے ۔ ) کہا : میں نے لوگوں کو حدیث سنائی تو عمران ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اس رات میں میں بھی موجود تھا اور مین نہیں سمجھتاکہ اسے کسی نے اس طرح یا در کھا جس طرح تم نے اسے یا درکھا ہے ۔

متعلقہ احادیث

Sahih Muslim 1161

Abu Dharr reported:I said: Messenger of Allah, which mosque was set up first on the earth? He said: Al-Masjid al-Haram (the sacred). I…

Sahih Muslim 1162

Ibrahim b. Yazid al-Tayml reported:I used to read the Qur'an with my father in the vestibule (before the door of the mosque). When I…

Sahih Muslim 1163

Jabir b. 'Abdullah al-Ansari reported:The Prophet (ﷺ) said: I have been conferred upon five (things) which were not granted to anyone…

Sahih Muslim 1164

Jabir b. 'Abdullah related that the Messenger of Allah (ﷺ) said, and he related like this

Sahih Muslim 1165

Hudhaifa reported:The Messenger of Allah (may peace be npon him) said: We have been made to excel (other) people in three (things): Our…

Sahih Muslim 1166

Hudhaifa reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said like this

Sahih Muslim 1167

Abu Huraira reported that the Messenger of Allah (may peace be upon hlmg) said:I have been given superiority over the other prophets in six…

Sahih Muslim 1168

Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: I have been commissioned with words which are concise but comprehensive in meaning; I…

Sahih Muslim 1169

Abu Huraira reported:I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying a hadith like that of Yunus

Sahih Muslim 1170

This hadith has been narratted by Abu Huraira by another chain of transmitters

Sahih Muslim 1171

Abu Huraira reported:The Messenger of Allah (ﷺ) said: I have been helped by terror (in the heart of the enemy) ; I have been given words…

Sahih Muslim 1172

Hammam b. Munabbih reported:That is what Abu Huraira reported to us from the Messenger of Allah (ﷺ) and he narrated (some) ahadith one of…