فیصلوں کا بیان

Muwatta Malik 1408

Maqtu Daif (Salim al-Hilali)Muwatta Malik 1408 — Book 36, Hadith 10

وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، سُئِلاَ هَلْ يُقْضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ فَقَالاَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَضَتِ السُّنَّةُ فِي الْقَضَاءِ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ يَحْلِفُ صَاحِبُ الْحَقِّ مَعَ شَاهِدِهِ وَيَسْتَحِقُّ حَقَّهُ فَإِنْ نَكَلَ وَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ أُحْلِفَ الْمَطْلُوبُ فَإِنْ حَلَفَ سَقَطَ عَنْهُ ذَلِكَ الْحَقُّ وَإِنْ أَبَى أَنْ يَحْلِفَ ثَبَتَ عَلَيْهِ الْحَقُّ لِصَاحِبِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا يَكُونُ ذَلِكَ فِي الأَمْوَالِ خَاصَّةً وَلاَ يَقَعُ ذَلِكَ فِي شَىْءٍ مِنَ الْحُدُودِ وَلاَ فِي نِكَاحٍ وَلاَ فِي طَلاَقٍ وَلاَ فِي عَتَاقَةٍ وَلاَ فِي سَرِقَةٍ وَلاَ فِي فِرْيَةٍ فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ فَإِنَّ الْعَتَاقَةَ مِنَ الأَمْوَالِ ‏.‏ فَقَدْ أَخْطَأَ لَيْسَ ذَلِكَ عَلَى مَا قَالَ وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ عَلَى مَا قَالَ لَحَلَفَ الْعَبْدُ مَعَ شَاهِدِهِ إِذَا جَاءَ بِشَاهِدٍ أَنَّ سَيِّدَهُ أَعْتَقَهُ وَأَنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَاءَ بِشَاهِدٍ عَلَى مَالٍ مِنَ الأَمْوَالِ ادَّعَاهُ حَلَفَ مَعَ شَاهِدِهِ وَاسْتَحَقَّ حَقَّهُ كَمَا يَحْلِفُ الْحُرُّ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَالسُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّ الْعَبْدَ إِذَا جَاءَ بِشَاهِدٍ عَلَى عَتَاقَتِهِ اسْتُحْلِفَ سَيِّدُهُ مَا أَعْتَقَهُ وَبَطَلَ ذَلِكَ عَنْهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَكَذَلِكَ السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَيْضًا فِي الطَّلاَقِ إِذَا جَاءَتِ الْمَرْأَةُ بِشَاهِدٍ أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا أُحْلِفَ زَوْجُهَا مَا طَلَّقَهَا فَإِذَا حَلَفَ لَمْ يَقَعْ عَلَيْهِ الطَّلاَقُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَسُنَّةُ الطَّلاَقِ وَالْعَتَاقَةِ فِي الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ وَاحِدَةٌ إِنَّمَا يَكُونُ الْيَمِينُ عَلَى زَوْجِ الْمَرْأَةِ وَعَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ وَإِنَّمَا الْعَتَاقَةُ حَدٌّ مِنَ الْحُدُودِ لاَ تَجُوزُ فِيهَا شَهَادَةُ النِّسَاءِ لأَنَّهُ إِذَا عَتَقَ الْعَبْدُ ثَبَتَتْ حُرْمَتُهُ وَوَقَعَتْ لَهُ الْحُدُودُ وَوَقَعَتْ عَلَيْهِ وَإِنْ زَنَى وَقَدْ أُحْصِنَ رُجِمَ وَإِنْ قَتَلَ الْعَبْدَ قُتِلَ بِهِ وَثَبَتَ لَهُ الْمِيرَاثُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَنْ يُوَارِثُهُ فَإِنِ احْتَجَّ مُحْتَجٌّ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَعْتَقَ عَبْدَهُ وَجَاءَ رَجُلٌ يَطْلُبُ سَيِّدَ الْعَبْدِ بِدَيْنٍ لَهُ عَلَيْهِ فَشَهِدَ لَهُ عَلَى حَقِّهِ ذَلِكَ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ فَإِنَّ ذَلِكَ يُثْبِتُ الْحَقَّ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ حَتَّى تُرَدَّ بِهِ عَتَاقَتُهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ لِسَيِّدِ الْعَبْدِ مَالٌ غَيْرُ الْعَبْدِ يُرِيدُ أَنْ يُجِيزَ بِذَلِكَ شَهَادَةَ النِّسَاءِ فِي الْعَتَاقَةِ فَإِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ عَلَى مَا قَالَ وَإِنَّمَا مَثَلُ ذَلِكَ الرَّجُلُ يَعْتِقُ عَبْدَهُ ثُمَّ يَأْتِي طَالِبُ الْحَقِّ عَلَى سَيِّدِهِ بِشَاهِدٍ وَاحِدٍ فَيَحْلِفُ مَعَ شَاهِدِهِ ثُمَّ يَسْتَحِقُّ حَقَّهُ وَتُرَدُّ بِذَلِكَ عَتَاقَةُ الْعَبْدِ أَوْ يَأْتِي الرَّجُلُ قَدْ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَيِّدِ الْعَبْدِ مُخَالَطَةٌ وَمُلاَبَسَةٌ فَيَزْعُمُ أَنَّ لَهُ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ مَالاً فَيُقَالُ لِسَيِّدِ الْعَبْدِ احْلِفْ مَا عَلَيْكَ مَا ادَّعَى فَإِنْ نَكَلَ وَأَبَى أَنْ يَحْلِفَ حُلِّفَ صَاحِبُ الْحَقِّ وَثَبَتَ حَقُّهُ عَلَى سَيِّدِ الْعَبْدِ فَيَكُونُ ذَلِكَ يَرُدُّ عَتَاقَةَ الْعَبْدِ إِذَا ثَبَتَ الْمَالُ عَلَى سَيِّدِهِ ‏.‏ قَالَ وَكَذَلِكَ أَيْضًا الرَّجُلُ يَنْكِحُ الأَمَةَ فَتَكُونُ امْرَأَتَهُ فَيَأْتِي سَيِّدُ الأَمَةِ إِلَى الرَّجُلِ الَّذِي تَزَوَّجَهَا فَيَقُولُ ابْتَعْتَ مِنِّي جَارِيَتِي فُلاَنَةَ أَنْتَ وَفُلاَنٌ بِكَذَا وَكَذَا دِينَارًا ‏.‏ فَيُنْكِرُ ذَلِكَ زَوْجُ الأَمَةِ فَيَأْتِي سَيِّدُ الأَمَةِ بِرَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فَيَشْهَدُونَ عَلَى مَا قَالَ فَيَثْبُتُ بَيْعُهُ وَيَحِقُّ حَقُّهُ وَتَحْرُمُ الأَمَةُ عَلَى زَوْجِهَا وَيَكُونُ ذَلِكَ فِرَاقًا بَيْنَهُمَا وَشَهَادَةُ النِّسَاءِ لاَ تَجُوزُ فِي الطَّلاَقِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا الرَّجُلُ يَفْتَرِي عَلَى الرَّجُلِ الْحُرِّ فَيَقَعُ عَلَيْهِ الْحَدُّ فَيَأْتِي رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ فَيَشْهَدُونَ أَنَّ الَّذِي افْتُرِيَ عَلَيْهِ عَبْدٌ مَمْلُوكٌ فَيَضَعُ ذَلِكَ الْحَدَّ عَنِ الْمُفْتَرِي بَعْدَ أَنْ وَقَعَ عَلَيْهِ وَشَهَادَةُ النِّسَاءِ لاَ تَجُوزُ فِي الْفِرْيَةِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمِمَّا يُشْبِهُ ذَلِكَ أَيْضًا مِمَّا يَفْتَرِقُ فِيهِ الْقَضَاءُ وَمَا مَضَى مِنَ السُّنَّةِ أَنَّ الْمَرْأَتَيْنِ يَشْهَدَانِ عَلَى اسْتِهْلاَلِ الصَّبِيِّ فَيَجِبُ بِذَلِكَ مِيرَاثُهُ حَتَّى يَرِثَ وَيَكُونُ مَالُهُ لِمَنْ يَرِثُهُ إِنْ مَاتَ الصَّبِيُّ وَلَيْسَ مَعَ الْمَرْأَتَيْنِ اللَّتَيْنِ شَهِدَتَا رَجُلٌ وَلاَ يَمِينٌ وَقَدْ يَكُونُ ذَلِكَ فِي الأَمْوَالِ الْعِظَامِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ وَالرِّبَاعِ وَالْحَوَائِطِ وَالرَّقِيقِ وَمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الأَمْوَالِ وَلَوْ شَهِدَتِ امْرَأَتَانِ عَلَى دِرْهَمٍ وَاحِدٍ أَوْ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ أَكْثَرَ لَمْ تَقْطَعْ شَهَادَتُهُمَا شَيْئًا وَلَمْ تَجُزْ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ مَعَهُمَا شَاهِدٌ أَوْ يَمِينٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ لاَ تَكُونُ الْيَمِينُ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ ‏.‏ وَيَحْتَجُّ بِقَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَقَوْلُهُ الْحَقُّ ‏{‏وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ‏}‏ يَقُولُ فَإِنْ لَمْ يَأْتِ بِرَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فَلاَ شَىْءَ لَهُ وَلاَ يُحَلَّفُ مَعَ شَاهِدِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فَمِنَ الْحُجَّةِ عَلَى مَنْ قَالَ ذَلِكَ الْقَوْلَ أَنْ يُقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً ادَّعَى عَلَى رَجُلٍ مَالاً أَلَيْسَ يَحْلِفُ الْمَطْلُوبُ مَا ذَلِكَ الْحَقُّ عَلَيْهِ فَإِنْ حَلَفَ بَطَلَ ذَلِكَ عَنْهُ وَإِنْ نَكَلَ عَنِ الْيَمِينِ حُلِّفَ صَاحِبُ الْحَقِّ إِنَّ حَقَّهُ لَحَقٌّ ‏.‏ وَثَبَتَ حَقُّهُ عَلَى صَاحِبِهِ فَهَذَا مَا لاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ وَلاَ بِبَلَدٍ مِنَ الْبُلْدَانِ فَبِأَىِّ شَىْءٍ أَخَذَ هَذَا أَوْ فِي أَىِّ مَوْضِعٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ وَجَدَهُ فَإِنْ أَقَرَّ بِهَذَا فَلْيُقْرِرْ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنَّهُ لَيَكْفِي مِنْ ذَلِكَ مَا مَضَى مِنَ السُّنَّةِ وَلَكِنِ الْمَرْءُ قَدْ يُحِبُّ أَنْ يَعْرِفَ وَجْهَ الصَّوَابِ وَمَوْقِعَ الْحُجَّةِ فَفِي هَذَا بَيَانُ مَا أَشْكَلَ مِنْ ذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ‏.‏

ترجمہ

عمر بن عبدالعزیز نے لکھا عبدالحمید بن عبدالرحمن کو اور وہ عامل تھے کوفہ کے کہ ایک قسم اور ایک گواہ پر فیصلہ کیا کر ۔ ام سلمہ بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا درست ہے انہوں نے کہا ہاں ۔ کہا مالک نے جب مدعی کے پاس ایک گواہ ہو تو اس کی گواہی لے کر مدعی کو قسم دیں گے اگر وہ قسم کھالے گا تو بری ہو جائے گا اگر وہ قسم کھانے سے انکار کرے تو مدعی کا دعویٰ اس پر ثابت ہوجائے گا۔ کہا مالک نے ایک قسم اور ایک گواہ سے فیصلہ کرنا صرف اموال کے عدوے میں ہوگا اور حدود اور نکاح اور طلاق اور عتاق اور سرقہ اور قذف میں ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرنا درست نہیں اور جس شخص نے عتاق کو اموال کے دعوے میں داخل کیا اس نے غلطی کی کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو غلام جب ایک گواہ لاتا اس امر پر کہ مولیٰ نے اس کو آزاد کر دیا ہے تو چاہیے تھا کہ غلام سے حلف لے کے اس کو آزاد کردیتے حالانکہ ایسا نہیں ہے بلکہ جب غلام اپنی آزادی پر ایک گواہ لائے تو اس کے مولیٰ سے حلف لیں گے اگر حلف کرلے گا تو آزادی ثابت نہ ہوگی۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر عورت ایک گواہ لائے اس امر پر کہ اس کے خاوند نے اس کو طلاق دی تو خاوند سے قسم لیں گے اگر وہ قسم کھائے اس امر پر کہ میں نے طلاق نہیں دی تو طلاق ثابت نہ ہوگی۔ کہا مالک نے اگر طلاق اور عتاق میں جب ایک گواہ ہو تو خاوند اور مولیٰ پر قسم لازم آئے گی ۔ کیونکہ عتاق ایک حد شرعی ہے جس میں عورتوں کی گواہی درست نہیں اس لئے کہ غلام جب آزاد ہوجاتا ہے تو اس کی حرمت ثابت ہوجاتی ہے اور اس کی حدیں اوروں پر پڑتی ہیں اور اوروں کی حدیں اس پر پڑتی ہیں اگر وہ زنا کرے اور محصن ہو تو رجم کیا جائے گا اگر اس کو کوئی مار ڈالے تو قاتل بھی مارا جائے گا اور اس کے وارثوں کو میراث کا استحقاق حاصل ہوگا اگر کوئی حجت کرنے والا یہ کہے کہ مولیٰ جب غلام کو آزاد کر دے پھر ایک شخص اپنا قرض مولیٰ سے مانگنے آئے اور ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے اپنا قرض ثابت کرے تو مولیٰ پر قرضہ ثابت ہوجائے گا اگر مولیٰ کے پاس سوائے اس غلام کے کوئی مال نہ ہوگا تو اس غلام کی آزادی فسخ کر ڈالیں گے اس سے یہ بات نکالی کہ عورتوں کی گواہی عتاق میں درست ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کیونکہ عورتوں کی گواہی قرضے کے اثبات میں معتبر ہوئی نہ کہ عتاق میں اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص اپنے غلام کو آزاد کر دے پھر اس کا قرض خواہ ایک گواہ اور ایک قسم سے اپنا قرضہ مولیٰ پر ثابت کر دے اور اس کی وجہ سے آزادی فسخ کی جائے یا مولیٰ پر قرضے کا دعویٰ کرے اور گواہ نہ رکھتا ہو تو مولیٰ سے قسم لی جائے اور وہ انکار کرے تو مدعی سے قسم لے کر اس کا قرضہ ثابت کردیا جائے اور آزادی فسخ کی جائے اسی طرح ایک شخص نکاح کرے لونڈی سے پھر لونڈی کا مولیٰ خاوند سے کہنے لگے کہ تو نے اور فلاں شخص نے مل کر میری اس لونڈی کو اتنے دینار میں خرید کیا ہے اور خاوند انکار کرے تو مولیٰ ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ لائے اپنے قول پر اس صورت میں بیع ثابت ہوجائے گی ۔ اور وہ لونڈی خاوند پر حرام ہوجائے گی۔ اور نکاح فسخ ہوجائے گا حالانکہ طلاق میں عورتوں کی گواہی درست نہیں ۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر ایک شخص قذف کرے ایک شخص کو پھر ایک مرد یا دو عورتیں گواہی دیں کہ جس شخص کو قذف کیا ہے وہ غلام ہے تو قاذف کے ذمہ سے حد ساقط ہوجائے گی حالانکہ قذف میں شہادت عورتوں کی درست نہیں ۔ کہا مالک نے یہ بھی اس کی مثال ہے کہ وہ عورتیں گواہی دیں بچے کے رونے پر تو اس بچے کے لئے میراث ثابت ہوجائے گی اور جو بچہ مر گیا ہوگا تو اس کے وارثوں کو میراث ملے گی حالانکہ ان دو عورتوں کے ساتھ نہ کوئی مرد ہے نہ قسم ہے اور کبھی میراث کا مال کثیر ہوتا ہے جیسے سونا چاندی زمین ، باغ، غلام وغیرہ اگر یہی دو عورتیں ایک درہم پر یا اس سے کم پر بھی گواہی دیں تو ان کی گواہی سے کچھ ثابت نہ ہوگا۔ جب تک کہ ان کے ساتھ ایک مرد یا ایک قسم نہ ہو۔ کہا مالک نے بعضے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ایک قسم اور ایک گواہ سے حق ثابت نہیں ہو تو بہ سبب قول اللہ تعالیٰ کے فان لم یکونا رجلین الایة تو حجت ان لوگوں پر یہ ہے کہ آیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر ایک شخص نے دعویٰ کیا ایک شخص پر مال کا کیا نہیں حلف لیا جاتا مدعی علیہ تو اگر حلف کرتا ہے باطل ہوجاتا ہے اس سے یہ یہ حق اگر نکول کرتا ہے پھر حلف دلاتے ہیں صاحب حق کو تو یہ امر ایسا ہے کہ نہیں ہے اختلاف اس میں کسی کا لوگوں میں سے اور نہ کسی شہر میں شہروں میں سے تو کسی دلیل سے نکالا ہے اس کو اور کس کتاب اللہ میں پایا ہے اس مسئلے کو تو جب اس امر کو اقرار کرے تو ضرور ہی اقرار کرے یمین مع الشاہد کا اگرچہ نہیں ہے یہ کتاب اللہ میں مگر حدیث میں تو موجود ہے آدمی کو چاہیے کہ ٹھیک راستہ پہچانے اور دلیل کا موقع دیکھے اس صورت میں اگر اللہ چاہے گا تو اس کی مشکل حل ہو جائے گی۔

متعلقہ احادیث

Muwatta Malik 1399

Yahya related to me from Malik from Hisham ibn Urwa from his father from Zaynab bint Abi Salama from Umm Salama, the wife of the Prophet,…

Muwatta Malik 1400

Malik related to me from Yahya ibn Said from Said ibn al-Musayyab that Umar ibn al-Khattab had a dispute brought to him between a muslim…

Muwatta Malik 1401

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm from his father from Abdullah ibn Amr ibn Uthman…

Muwatta Malik 1402

Malik related to me that Rabia ibn Abi Abd ar-Rahman said, "An Iraqi man came before Umar ibn al-Khattab and said, 'I have come to you…

Muwatta Malik 1403

Malik related to me that Umar ibn al-Khattab said, "The testimony of some one known to bear a grudge or to be unreliable is not accepted

Muwatta Malik 1404

Yahya said from Malik that he heard from Sulayman ibn Yasar and others that when they were asked whether the testimony of a man flogged for…

Muwatta Malik 1405

Hadith Translation Not available

Muwatta Malik 1406

Yahya said, "Malik said from Jafar ibn Muhammad from his father that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace,…

Muwatta Malik 1407

From Malik from Abu'z-Zinad that Umar ibn Abd al-Aziz wrote to Abd al-Hamid ibn Abd ar-Rahman ibn Zayd ibn al-Khattab who was the governor…

Muwatta Malik 1409

Yahya said that Malik spoke about a man who died and had a debt owing to him and there was one witness, and some people had a debt against…

Muwatta Malik 1410

Yahya said, "Malik said from Hisham ibn Urwa that Abdullah ibn az-Zubayr gave judgment based on the testimony of children concerning the…

Muwatta Malik 1411

Yahya said, Malik related to us from Hisham ibn Hisham ibn Utba ibn Abi Waqqas from Abdullah ibn Nistas from Jabir ibn Abdullah al- Ansari…