زمین کرایہ پر لینے کا بیان

Muwatta Malik 1393

Mauquf Daif (Salim al-Hilali)Muwatta Malik 1393 — Book 34, Hadith 4

وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، تَكَارَى أَرْضًا فَلَمْ تَزَلْ فِي يَدَيْهِ بِكِرَاءٍ حَتَّى مَاتَ قَالَ ابْنُهُ فَمَا كُنْتُ أُرَاهَا إِلاَّ لَنَا مِنْ طُولِ مَا مَكَثَتْ فِي يَدَيْهِ حَتَّى ذَكَرَهَا لَنَا عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَمَرَنَا بِقَضَاءِ شَىْءٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنْ كِرَائِهَا ذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ ‏.‏

ترجمہ

ابن شہاب نے سالم بن عبداللہ سے پوچھا کہ کھتیوں کا کرایہ دینا کیسا ہے انہوں نے کہا کچھ قباحت نہیں سونے یا چاندی کے بدلے میں ابن شہاب نے کہا کیا تم کو رافع بن خدیج کی حدیث نہیں پہنچی سام نے کہا رافع نے زیادتی کی اگر میرے پاس زمین مزروعہ ہوتی تو میں اس کو کرایہ دیتا ۔ عبدالرحمن بن عورف نے ایک زمین کرایہ کو لی ہمیشہ ان کے پاس رہی مرے دم تک ان کے بیٹے نے کہا ہم اس کو اپنی ملک سمجھتے تھے اس وجہ سے کہ معت تک ہمارے پاس رہی جب عبدالرحمن مرنے لگے تو انہوں نے کہا وہ کرایہ کی ہے اور حکم کیا کہ کرایہ ادا کرنے کا جو ان پر باقی تھا سونے یا چاندی کی قسم سے ۔

متعلقہ احادیث