خرید و فروخت کا بیان
Muwatta Malik 1370
وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلاً، يَسْأَلُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ أَبِيعُ بِالدَّيْنِ . فَقَالَ سَعِيدٌ لاَ تَبِعْ إِلاَّ مَا آوَيْتَ إِلَى رَحْلِكَ . قَالَ مَالِكٌ فِي الَّذِي يَشْتَرِي السِّلْعَةَ مِنَ الرَّجُلِ عَلَى أَنْ يُوَفِّيَهُ تِلْكَ السِّلْعَةَ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى إِمَّا لِسُوقٍ يَرْجُو نَفَاقَهَا فِيهِ وَإِمَّا لِحَاجَةٍ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ الَّذِي اشْتَرَطَ عَلَيْهِ ثُمَّ يُخْلِفُهُ الْبَائِعُ عَنْ ذَلِكَ الأَجَلِ فَيُرِيدُ الْمُشْتَرِي رَدَّ تِلْكَ السِّلْعَةِ عَلَى الْبَائِعِ إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ لِلْمُشْتَرِي وَإِنَّ الْبَيْعَ لاَزِمٌ لَهُ وَإِنَّ الْبَائِعَ لَوْ جَاءَ بِتِلْكَ السِّلْعَةِ قَبْلَ مَحِلِّ الأَجَلِ لَمْ يُكْرَهِ الْمُشْتَرِي عَلَى أَخْذِهَا . قَالَ مَالِكٌ فِي الَّذِي يَشْتَرِي الطَّعَامَ فَيَكْتَالُهُ ثُمَّ يَأْتِيهِ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنْهُ فَيُخْبِرُ الَّذِي يَأْتِيهِ أَنَّهُ قَدِ اكْتَالَهُ لِنَفْسِهِ وَاسْتَوْفَاهُ فَيُرِيدُ الْمُبْتَاعُ أَنْ يُصَدِّقَهُ وَيَأْخُذَهُ بِكَيْلِهِ إِنَّ مَا بِيعَ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ بِنَقْدٍ فَلاَ بَأْسَ بِهِ وَمَا بِيعَ عَلَى هَذِهِ الصِّفَةِ إِلَى أَجَلٍ فَإِنَّهُ مَكْرُوهٌ حَتَّى يَكْتَالَهُ الْمُشْتَرِي الآخَرُ لِنَفْسِهِ وَإِنَّمَا كُرِهَ الَّذِي إِلَى أَجَلٍ لأَنَّهُ ذَرِيعَةٌ إِلَى الرِّبَا وَتَخَوُّفٌ أَنْ يُدَارَ ذَلِكَ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ بِغَيْرِ كَيْلٍ وَلاَ وَزْنٍ فَإِنْ كَانَ إِلَى أَجَلٍ فَهُوَ مَكْرُوهٌ وَلاَ اخْتِلاَفَ فِيهِ عِنْدَنَا . قَالَ مَالِكٌ لاَ يَنْبَغِي أَنْ يُشْتَرَى دَيْنٌ عَلَى رَجُلٍ غَائِبٍ وَلاَ حَاضِرٍ إِلاَّ بِإِقْرَارٍ مِنَ الَّذِي عَلَيْهِ الدَّيْنُ وَلاَ عَلَى مَيِّتٍ وَإِنْ عَلِمَ الَّذِي تَرَكَ الْمَيِّتُ وَذَلِكَ أَنَّ اشْتِرَاءَ ذَلِكَ غَرَرٌ لاَ يُدْرَى أَيَتِمُّ أَمْ لاَ يَتِمُّ . قَالَ وَتَفْسِيرُ مَا كُرِهَ مِنْ ذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا اشْتَرَى دَيْنًا عَلَى غَائِبٍ أَوْ مَيِّتٍ أَنَّهُ لاَ يُدْرَى مَا يَلْحَقُ الْمَيِّتَ مِنَ الدَّيْنِ الَّذِي لَمْ يُعْلَمْ بِهِ فَإِنْ لَحِقَ الْمَيِّتَ دَيْنٌ ذَهَبَ الثَّمَنُ الَّذِي أَعْطَى الْمُبْتَاعُ بَاطِلاً . قَالَ مَالِكٌ وَفِي ذَلِكَ أَيْضًا عَيْبٌ آخَرُ أَنَّهُ اشْتَرَى شَيْئًا لَيْسَ بِمَضْمُونٍ لَهُ وَإِنْ لَمْ يَتِمَّ ذَهَبَ ثَمَنُهُ بَاطِلاً فَهَذَا غَرَرٌ لاَ يَصْلُحُ . قَالَ مَالِكٌ وَإِنَّمَا فُرِقَ بَيْنَ أَنْ لاَ يَبِيعَ الرَّجُلُ إِلاَّ مَا عِنْدَهُ وَأَنْ يُسَلِّفَ الرَّجُلُ فِي شَىْءٍ لَيْسَ عِنْدَهُ أَصْلُهُ أَنَّ صَاحِبَ الْعِينَةِ إِنَّمَا يَحْمِلُ ذَهَبَهُ الَّتِي يُرِيدُ أَنْ يَبْتَاعَ بِهَا فَيَقُولُ هَذِهِ عَشَرَةُ دَنَانِيرَ فَمَا تُرِيدُ أَنْ أَشْتَرِيَ لَكَ بِهَا فَكَأَنَّهُ يَبِيعُ عَشَرَةَ دَنَانِيرَ نَقْدًا بِخَمْسَةَ عَشَرَ دِينَارًا إِلَى أَجَلٍ فَلِهَذَا كُرِهَ هَذَا وَإِنَّمَا تِلْكَ الدُّخْلَةُ وَالدُّلْسَةُ .
ترجمہ
موسی بن میسرہ نے سنا ایک شخص پوچھ رہا تھا سعید بن مسیب سے میں قرض کے بدل میں بیچا کرتا ہوں سعید نے کہا تو نہ بیچ مگر اس چیز کو جو تیرے پاس ہو ۔ کہا مالک نے جو شخص کوئی چیز خرید کرے اس شرط پر کہ بائع (بچنے والا) وہ شئے مشتری (خریدنے والا) کو اتنی مدت میں سپرد کردے اس میں مشتری (خریدنے والا) نے کوئی مصلحت رکھی ہو مثلا اس وقت بازار میں اس مال کی نکاسی کی امید ہو یا اور کچھ غرض ہو پھر بائع (بچنے والا) اس وعدے میں خلاف کر اور مشتری (خریدنے والا) چاہے کہ وہ شئے بائع (بچنے والا) کو پھیر دے تو مشتری (خریدنے والا) کو یہ حق نہیں پہنچتا اور بیع لازم رہے گی اگر بائع (بچنے والا) اس شئے کو قبل میعاد کے لئے آیا تو مشتری (خریدنے والا) پر جبر نہ کیا جائے گا اس کے لینے پر۔ کہا مالک نے جو شخص اناج خرید کر اس کو تول لے پھر ایک خریدار آئے جو مشتری (خریدنے والا) سے اس اناج کو خرید کرنا چاہے مشتری (خریدنے والا) اس سے کہے کہ میں اناج تول چکا ہوں اور وہ شخص مشتری (خریدنے والا) کو سچا سمجھ کر اس غلے کو نقد مول لے لے تو کچھ قباحت نہیں مگر وعدے پر لینا مکروہ ہے جب تک وہ خریدار دوبارہ اس کو تول نہ لے۔ کہا مالک نے دین کا خریدنا درست نہیں خواہ غائب پر ہو یا حاضر پر مگر جب شخص حاضر اس کا اقرار کرے اسی طرح جو دین میت پر ہو اس کا بھی خریدنا درست نہیں کیونکہ اس میں دھوکا ہے معلوم نہیں وہ قرض ملتا ہے یا نہیں اس واسطے اگر میت یا غائب پر اور بھی دین نکلا تو اس کے پیسے مفت گئے دوسرے یہ کہ وہ قرض اس کی ضمان میں داخل نہیں ہو اگر نہ پنٹا تو اس کے پیسے مفت گئے۔ کہا مالک نے بیع سلف(قرض) میں اور بیع عینہ میں یہ فرق ہے کہ بیع عینہ والا دس دینار نقد دے کر پندرہ دینار وعدے پر لیتا ہے تو یہ صریح دھوکا ہے اور بالکل فریب ہے۔
متعلقہ احادیث
Muwatta Malik 1290
Yahya related to me from Malik from a reliable source from Amr ibn Shuayb from his father from his father's father that the Messenger of…
Muwatta Malik 1291
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that Umar ibn al-Khattab said, "If a slave who has wealth is sold, that…
Muwatta Malik 1292
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm that Aban ibn Uthman and Hisham ibn Ismail used to…
Muwatta Malik 1293
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Salim ibn Abdullah that Abdullah ibn Umar sold one of his slaves for eight hundred…
Muwatta Malik 1294
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud told him that Abdullah ibn Masud bought a…
Muwatta Malik 1295
Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar would say, "A man should not have intercourse with a slave girl except one…
Muwatta Malik 1296
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Abdullah ibn Amir gave Uthman ibn Affan a slave-girl who had a husband whom he had…
Muwatta Malik 1297
Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman ibn Awf that Abd ar-Rahman ibn Awf bought a slave- girl…
Muwatta Malik 1298
Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said,…
Muwatta Malik 1299
Yahya related to me from Malik from Nafi from Ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade…
Muwatta Malik 1300
Yahya related to me from Malik from Humayd at-Tawil from Anas ibn Malik that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him…
Muwatta Malik 1301
Yahya related to me from Malik from Abu'r-Rijal Muhammad ibn Abd ar-Rahman ibn Haritha from his mother, Amra bint Abd ar-Rahman that the…