Business Transactions

Muwatta Malik 1358

Mauquf Sahih (Salim al-Hilali)Muwatta Malik 1358 — Book 31, Hadith 20

حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، وَرَجُلٌ، يَسْأَلُهُ عَنْ رَجُلٍ، سَلَّفَ فِي سَبَائِبَ فَأَرَادَ بَيْعَهَا قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَهَا فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ تِلْكَ الْوَرِقُ بِالْوَرِقِ ‏.‏ وَكَرِهَ ذَلِكَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَذَلِكَ فِيمَا نُرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَبِيعَهَا مِنْ صَاحِبِهَا الَّذِي اشْتَرَاهَا مِنْهُ بِأَكْثَرَ مِنَ الثَّمَنِ الَّذِي ابْتَاعَهَا بِهِ وَلَوْ أَنَّهُ بَاعَهَا مِنْ غَيْرِ الَّذِي اشْتَرَاهَا مِنْهُ لَمْ يَكُنْ بِذَلِكَ بَأْسٌ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ الأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِيمَنْ سَلَّفَ فِي رَقِيقٍ أَوْ مَاشِيَةٍ أَوْ عُرُوضٍ فَإِذَا كَانَ كُلُّ شَىْءٍ مِنْ ذَلِكَ مَوْصُوفًا فَسَلَّفَ فِيهِ إِلَى أَجَلٍ فَحَلَّ الأَجَلُ فَإِنَّ الْمُشْتَرِيَ لاَ يَبِيعُ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ مِنَ الَّذِي اشْتَرَاهُ مِنْهُ بِأَكْثَرَ مِنَ الثَّمَنِ الَّذِي سَلَّفَهُ فِيهِ قَبْلَ أَنْ يَقْبِضَ مَا سَلَّفَهُ فِيهِ وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا فَعَلَهُ فَهُوَ الرِّبَا صَارَ الْمُشْتَرِي إِنْ أَعْطَى الَّذِي بَاعَهُ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ فَانْتَفَعَ بِهَا فَلَمَّا حَلَّتْ عَلَيْهِ السِّلْعَةُ وَلَمْ يَقْبِضْهَا الْمُشْتَرِي بَاعَهَا مِنْ صَاحِبِهَا بِأَكْثَرَ مِمَّا سَلَّفَهُ فِيهَا فَصَارَ أَنْ رَدَّ إِلَيْهِ مَا سَلَّفَهُ وَزَادَهُ مِنْ عِنْدِهِ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ مَنْ سَلَّفَ ذَهَبًا أَوْ وَرِقًا فِي حَيَوَانٍ أَوْ عُرُوضٍ إِذَا كَانَ مَوْصُوفًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ حَلَّ الأَجَلُ فَإِنَّهُ لاَ بَأْسَ أَنْ يَبِيعَ الْمُشْتَرِي تِلْكَ السِّلْعَةَ مِنَ الْبَائِعِ قَبْلَ أَنْ يَحِلَّ الأَجَلُ أَوْ بَعْدَ مَا يَحِلُّ بِعَرْضٍ مِنَ الْعُرُوضِ يُعَجِّلُهُ وَلاَ يُؤَخِّرُهُ بَالِغًا مَا بَلَغَ ذَلِكَ الْعَرْضُ إِلاَّ الطَّعَامَ فَإِنَّهُ لاَ يَحِلُّ أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ وَلِلْمُشْتَرِي أَنْ يَبِيعَ تِلْكَ السِّلْعَةَ مِنْ غَيْرِ صَاحِبِهِ الَّذِي ابْتَاعَهَا مِنْهُ بِذَهَبٍ أَوْ وَرِقٍ أَوْ عَرْضٍ مِنَ الْعُرُوضِ يَقْبِضُ ذَلِكَ وَلاَ يُؤَخِّرُهُ لأَنَّهُ إِذَا أَخَّرَ ذَلِكَ قَبُحَ وَدَخَلَهُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الْكَالِئِ بِالْكَالِئِ وَالْكَالِئُ بِالْكَالِئِ أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ دَيْنًا لَهُ عَلَى رَجُلٍ بِدَيْنٍ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَمَنْ سَلَّفَ فِي سِلْعَةٍ إِلَى أَجَلٍ وَتِلْكَ السِّلْعَةُ مِمَّا لاَ يُؤْكَلُ وَلاَ يُشْرَبُ فَإِنَّ الْمُشْتَرِيَ يَبِيعُهَا مِمَّنْ شَاءَ بِنَقْدٍ أَوْ عَرْضٍ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَهَا مِنْ غَيْرِ صَاحِبِهَا الَّذِي اشْتَرَاهَا مِنْهُ وَلاَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَبِيعَهَا مِنَ الَّذِي ابْتَاعَهَا مِنْهُ إِلاَّ بِعَرْضٍ يَقْبِضُهُ وَلاَ يُؤَخِّرُهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ وَإِنْ كَانَتِ السِّلْعَةُ لَمْ تَحِلَّ فَلاَ بَأْسَ بِأَنْ يَبِيعَهَا مِنْ صَاحِبِهَا بِعَرْضٍ مُخَالِفٍ لَهَا بَيِّنٍ خِلاَفُهُ يَقْبِضُهُ وَلاَ يُؤَخِّرُهُ ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ فِيمَنْ سَلَّفَ دَنَانِيرَ أَوْ دَرَاهِمَ فِي أَرْبَعَةِ أَثْوَابٍ مَوْصُوفَةٍ إِلَى أَجَلٍ فَلَمَّا حَلَّ الأَجَلُ تَقَاضَى صَاحِبَهَا فَلَمْ يَجِدْهَا عِنْدَهُ وَوَجَدَ عِنْدَهُ ثِيَابًا دُونَهَا مِنْ صِنْفِهَا فَقَالَ لَهُ الَّذِي عَلَيْهِ الأَثْوَابُ أُعْطِيكَ بِهَا ثَمَانِيَةَ أَثْوَابٍ مِنْ ثِيَابِي هَذِهِ ‏.‏ إِنَّهُ لاَ بَأْسَ بِذَلِكَ إِذَا أَخَذَ تِلْكَ الأَثْوَابَ الَّتِي يُعْطِيهِ قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا فَإِنْ دَخَلَ ذَلِكَ الأَجَلُ فَإِنَّهُ لاَ يَصْلُحُ وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ مَحِلِّ الأَجَلِ فَإِنَّهُ لاَ يَصْلُحُ أَيْضًا إِلاَّ أَنْ يَبِيعَهُ ثِيَابًا لَيْسَتْ مِنْ صِنْفِ الثِّيَابِ الَّتِي سَلَّفَهُ فِيهَا ‏.‏

Translation

قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عباس سے ایک شخص نے پوچھا جو کوئی کپڑوں میں سلف کرے پھر قبل قبضے کے ان کو بیچنا چاہے ابن عباس نے کہا یہ چاندی کی بیع ہے چاندی کے بدلے میں اور اس کو مکروہ جانا ۔ کہا مالک نے ہماری دانست میں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص ان کپڑوں کو اسی کے ہاتھ بیچنا چاہے جس سے خریدا ہے پہلی قیمت سے کچھ زیادہ پر کیونکہ اگر وہ کسی اور شخص سے ان کپڑوں کو بیچنا چاہے تو کچھ قباحت نہیں ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے جو شخص سلف کرے غلام میں یا جانور میں یا کسی اور اسباب میں اور اس کے اوصاف بیان کردے ایک میعاد معین پر جب میعاد گزرے تو مشتری (خریدنے والا) ان چیزوں کو اسی بائع (بچنے والا) کے ہاتھ پہلی قیمت سے زیادہ پر نہ بیچے جب تک کہ ان چیزوں کو اپنے قبضے میں نہ لائے ورنہ ربا ہوجائے گا گویا بائع (بچنے والا) نے ایک مدت تک مشتری (خریدنے والا) کے روپوں سے فائدہ اٹھایا پھر زیادہ دے کر اس کو پھیر دیا تو یہ عین ربا ہے۔ کہا مالک نے جو شخص سلف کرے سونا چاندی دے کر کسی اساب میں یا جانور میں اور اس سے اوصاف بیان کردے ایک میعاد معین پر جب میعاد گزر جائے یا نہ گزرے تو مشتری (خریدنے والا) اس اسباب یا جانور کو بائع (بچنے والا) کے ہاتھ کسی اور اسباب کے بدلے میں بیچ سکتا ہے مگر یہ ضروری ہے کہ اس اسباب کو نقد لے لے اس میں میعاد نہ ہو سوائے غلے کے کہ اس کا بیچنا قبل قبضے کے درست نہیں اور اگر مشتری (خریدنے والا) اس اس اسباب کو سوائے بائع (بچنے والا) کے اور کسی کے ہاتھ بیچے تو سونے چاندی کے بدلے میں بھی بیچ سکتا ہے مگر یہ ضروری ہے کہ دام نقد لے میعاد نہ ہو ورنہ کالئی کی بیع کالئی کے بدلے میں ہوجائے گی یعنی دین کے بدلے میں دین۔ کہا مالک نے جو شخص کسی اسباب میں جو کھانے پینے کا نہیں ہے سلف کرے ایک میعاد پر تو مشتری (خریدنے والا) کو اختیار ہے کہ اس اسباب کو سوائے بائع (بچنے والا) کے اور کسی کے ہاتھ سونا یا چاندی یا اسباب کے بدلے میں فروخت کر ڈالے قبضے سے پیشتر مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ بائع (بچنے والا) کے ہاتھ ہی بیچے اگر ایسا کرے تو اسباب کے بدلے میں بید ڈالے تو کچھ قباحت نہیں مگر نقدا نقد بیچے۔ کہا مالک نے جس نے روپے یا اشرفیاں دے کر سلف کی چار کپڑوں میں ایک میعاد پر اور ان کپڑوں کے اوصاف بیان کردیئے ۔ جب مدت گزری تو مشتری (خریدنے والا) نے بائع (بچنے والا) پر ان چیزوں کا تقاضا کیا لیکن بائع (بچنے والا) کے پاس اس قسم کے کپڑے نہ نکلے بلکہ اس سے ہلکے اس وقت بائع (بچنے والا) نے کہا تو ان ہلکے کپڑوں میں سے آٹھ کپڑے لے لے تو مشتری (خریدنے والا) کو لینا درست ہے مگر اسی وقت نقد لینا چاہیے دیر نہ کرے اگر ان آٹھ کپڑوں کی کوئی معیاد نہ کرے گا تو درست نہیں ہے اگر قبل معیاد گزرنے کے دوسرے کپڑے اسی قسم کے ٹھہرائے تو درست نہیں البتہ دوسرے قسم کے کپڑوں سے بدلنا درست ہے۔

Related hadith

Muwatta Malik 1290

Yahya related to me from Malik from a reliable source from Amr ibn Shuayb from his father from his father's father that the Messenger of…

Muwatta Malik 1291

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that Umar ibn al-Khattab said, "If a slave who has wealth is sold, that…

Muwatta Malik 1292

Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Muhammad ibn Amr ibn Hazm that Aban ibn Uthman and Hisham ibn Ismail used to…

Muwatta Malik 1293

Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Salim ibn Abdullah that Abdullah ibn Umar sold one of his slaves for eight hundred…

Muwatta Malik 1294

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Ubaydullah ibn Abdullah ibn Utba ibn Masud told him that Abdullah ibn Masud bought a…

Muwatta Malik 1295

Yahya related to me from Malik from Nafi that Abdullah ibn Umar would say, "A man should not have intercourse with a slave girl except one…

Muwatta Malik 1296

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab that Abdullah ibn Amir gave Uthman ibn Affan a slave-girl who had a husband whom he had…

Muwatta Malik 1297

Yahya related to me from Malik from Ibn Shihab from Abu Salama ibn Abd ar-Rahman ibn Awf that Abd ar-Rahman ibn Awf bought a slave- girl…

Muwatta Malik 1298

Yahya related to me from Malik from Nafi from Abdullah ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said,…

Muwatta Malik 1299

Yahya related to me from Malik from Nafi from Ibn Umar that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, forbade…

Muwatta Malik 1300

Yahya related to me from Malik from Humayd at-Tawil from Anas ibn Malik that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him…

Muwatta Malik 1301

Yahya related to me from Malik from Abu'r-Rijal Muhammad ibn Abd ar-Rahman ibn Haritha from his mother, Amra bint Abd ar-Rahman that the…